احکامات رضاعت اور متعلقہ مسائل:
شریعت اسلامیہ میں دیگر حلال و حرام کے مسائل کی طرح رضاعت کا مسئلہ بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ محض دودھ پینے پلانے کی بات نہیں ہے بلکہ اس پر باقاعدہ شرعی احکام مرتب ہوتے ہیں۔ چنانچہ رضاعت سے باقاعدہ اسی طرح حلت و حرمت ثابت ہوتی ہے جس طرح نسبی اور خونی رشتوں سے ثابت ہوتی ہے۔ فطری طور پر اور احکامات اسلامی کے مطابق بچوں کو دودھ پلانا ماؤں کی بنیادی ذمہ داری ہے جس پر ان کو بے پناہ اجر کی بشارت دی گئی ہے اور اولاد کو اس حوالے سے ماؤں سے خصوصی طور پرحسن سلوک اور خدمت کی تاکید بھی کی گئی ہے۔ البتہ قرآنی احکام کے مطابق ہی اگر کوئی ماں اپنے بچے کو دودھ نہ پلانا چاہے یا باپ کسی اور عورت سے دودھ پلوانا چاہے تو وہ ایسا کر سکتے ہیں۔البتہ اس سے رضاعت کے رشتے قائم ہوتے ہے۔ نبی کریم ؐ نے بھی حضرت ابو طالب کی لونڈی ثوبیہ، حلیمہ سعدیہ اور دیگر خواتین کا دودھ پیا تھا اور اپنی زندگی میں ان رشتوں کے احترام اور تقدس کا خیال رکھا۔
’اور یہ حقیقت ہے کہ ہم نے انسان کو اپنے والدین کا حق پہچاننے کی خود تاکید کی ہے۔ اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اسے اپنے پیٹ میں رکھا اور دو سال اس کا دودھ چھوٹنے میں لگے۔ (اسی لیے) ہم نے اس کو نصیحت کی کہ میرا شکر کر اور اپنے والدین کا شکر بجا لا، میری ہی طرف تجھے پلٹنا ہے‘۔(لقمٰن؛ ۱۴)
’ہم نے انسان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ نیک برتاؤ کرے۔ اس کی ماں نے مشقت اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور مشقت اٹھا کر ہی اس کو جنا، اور اس کے حمل اور دودھ چھڑانے میں تیس مہینے لگ گئے۔(الاحقاف؛ ۱۵)
’جو باپ چاہتے ہوں کہ ان کی اولاد پوری مدت رضاعت تک دودھ پیے تو مائیں اپنے بچوں کو کامل دو سال دودھ پلائیں۔ اس صورت میں بچے کے باپ کو معروف طریقے سے انہیں کھانا کپڑا دینا ہوگا۔ مگر کسی پر اس کی وسعت سے بڑھ کر بار نہ ڈالنا چاہیے۔ نہ تو ماں کو اس وجہ سے تکلیف میں ڈالا جائے کہ بچہ اس کا ہے اور نہ ہی باپ کو اس وجہ سے تنگ کیا جائے کہ بچہ اس کا ہے۔ دودھ پلانے والی کا یہ حق جیسا کہ بچے کے باپ پر ہے ویسا ہی اس کے وارث پر بھی ہے۔ لیکن اگر فریقین باہمی رضامندی اور مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں تو ایسا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اور اگر تمہارا خیال اپنی اولاد کو کسی غیر عورت سے دودھ پلانے کا ہو تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔ بشرطیکہ اس کا جو کچھ معاوضہ طے کرو وہ معروف طریقے پر ادا کرو۔ اللہ سے ڈرو اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو سب اللہ کی نظر میں ہے‘۔(البقرہ۔ ۲۳۳ )
’ان کو زمانہ عدت میں اسی جگہ رکھو جہاں تم رہتے ہو جیسی کچھ بھی جگہ تمہیں میسر ہو۔ اور انہیں تنگ کرنے کے لیے ان کو نہ ستاؤ۔ اور اگر وہ حاملہ ہو تو ان پر اس وقت تک خرچ کرتے رہو جب تک کہ ان کا وضع حمل نہ ہو جائے۔ پھر اگر وہ تمہارے لیے (بچے کو) دودھ پلائیں تو ان کی اجرت انہیں دو اور بھلے طریقے سے (اجرت کا معاملہ) باہمی گفت و شنید سے طے کر لو۔ لیکن اگر تم نے (اجرت طے کرنا میں) ایک دوسرے کو تنگ کیا تو بچے کو کوئی اور عورت دودھ پلا لے گی۔ خوشحال آدمی اپنی خوشحالی کے مطابق نفقہ دے اور جس کو رزق کم دیا گیا ہو وہ اسی مال میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے۔ اللہ نے جس جتنا کچھ دیا ہے اس سے زیادہ کا وہ اسے مکلف نہیں کرتا۔ بعید نہیں کہ اللہ تنگدستی کے بعد فراخ دستی بھی عطا فرما دے‘۔ (الطلاق۔ ۶۔۷)
دودھ پلانے سے رشتہ رضاعت کے احکامات قرآن اور احادیث کی روشنی میں:
’تم پر حرام کی گئی تمہاری مائیں، بیٹیاں، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہو اور تمہاری دودھ شریک بہنیں….(النساء : ۲۳)
اسی طرح نبی کریمؐ نے فرمایا: ’رضاعت سے بھی وہی حرمت حاصل ہوتی ہے جو نسب سے ہوتی ہے۔‘ (صحیح مسلم 1445)۔
نبی کریمؐ کو کہا گیا کہ آپ اپنے چچا حمزہؓ کی بیٹی سے شادی کر لیں۔آپؐ نے فرمایا:’ وہ میرے لیے حلال نہیں ہیں کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہیں۔ جو رشتے خون کے سبب سے حرام ہوتے ہیں وہی رضاعت کے سبب بھی حرام ہوتے ہیں‘۔ (صحیح مسلم 1447)۔ (چونکہ حضرت حمزہ ؓ اور آپؐ نے ایک ہی خاتون کا دودھ پیا تھا)۔
عقبہ بن حارث ؓ نے ام یعقوب بنت ابی اہاب بن عزیزؓ سے شادی کی۔ لیکن ایک سیاہ فام عورت نے کہا کہ میں نے دونوں کو دودھ پلایا ہؤا ہے۔ عقبہؓ یہ مسئلہ لے کر رسول اللہؐ کے پاس حاضر ہوئے تو نبی کریمؐ نے فرمایا: ’ یہ رشتہ کیسے قائم رہ سکتا ہے جبکہ رضاعت کی بات کر دی گئی ہے۔ چنانچہ عقبہؓ نے ام یعقوب سے علیحدگی اختیار کر لی اور اس نے کسی اور سے شادی کی۔ (صحیح بخاری 2640 )۔
شریعت اسلامیہ میں دودھ کی رشتہ داری کے متعلق عمومی قاعدہ یہ ہے کہ وہ تمام عورتیں جو کسی مرد کے لیے نسب کی وجہ سے ممنوع ہیں وہ کسی عورت کے دودھ پلانے کی وجہ سے بھی حرام ہیں۔ عورت خود اس مرد بچے کے لیے ممنوع ہو جاتی ہے جسے اس نے دودھ پلایا ہے، کیونکہ اسے قانونی طور پر شادی کے نقطہ نظر سے اس کی ماں سمجھا جاتا ہے، نیز آپس میں احترام کے رشتے قائم ہو جاتے ہیں، اگرچہ وراثت اور نگہداشت (نان نفقہ) جیسی دوسری چیزوں کے لیے نہیں۔ مرضعۃ (دودھ پلانے والی عورت) کی ماں اور بیٹیاں بھی اس مرد بچے کے لیے ممنوع ہیں جسے اس نے دودھ پلایا ہے۔ مرضعۃ کی بیٹیوں کی بیٹیاں اور بیٹوں کی بیٹیاں بھی ممنوع ہوں گی۔ یہی صورتحال اس صورت میں ہو گی اگر کوئی عورت کسی لڑکی کو دودھ پلائے تو مرضعۃ کا باپ، اس کا شوہر، اس کے بیٹے، بیٹوں کے بیٹے، بیٹیوں کے بیٹے اس لڑکی کے لیے ممنوع ہو جاتے ہیں، جسے دودھ پلایا گیا ہے۔ اگر مرضعۃ دو غیر متعلقہ بچوں کو دودھ پلاتی ہے تو وہ بھائی بن جاتے ہیں، اور اگر ان میں سے ایک لڑکی ہو تو دونوں بچوں کے درمیان نکاح ممکن نہیں ہے۔ قاعدہ یہ ہے کہ جو لوگ ایک سینہ پر جمع ہوتے ہیں وہ سب بھائی بھائی بن جاتے ہیں جیسا کہ معاملہ ہو۔ مرضعۃ کے بھائیوں کی بیٹیاں یا اس کی بہنوں کی بیٹیاں مرد کے بچے کے لیے ممنوع نہیں ہیں، کیونکہ وہ اس کی کزن بن گئی ہیں۔
اسی لیے فقہاء اسلام نے لکھا ہے کہ عورت ہر بچے کو دودھ نہ پلائے اور نہ ہی شوہر کی اجازت کے بغیر کسی اور بچے کو دودھ پلائے۔ اور اگر دودھ پلانا ضروری ہو تو اسے یاد رکھے اور خاندان کے لوگوں کو بتائے تاکہ کل دودھ کے رشتے کی حرمت پامال نہ ہو۔
رضاعت سے حرمت کا ثبوت مسلمانوں کے ہاں ایک اجماعی اور متفق علیہ مسئلہ ہے جس سے قرابت داری اور حلت و حرمت کے ثبوت میں کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ لہٰذا ایک مسلمان کو ان مسائل کو اس طرح نہیں لینا چاہیے جس طرح کے غیر مسلم یا آزاد خیال لوگ چیزوں کو دیکھتے ہیں کیونکہ جن کے نزدیک مرد و عورت کے تعلقات میں حلال و حرام کی کوئی تمیز نہیں تو وہ دودھ پینے پلانے میں یہ تکلف کیوں کریں گے۔
رضاعت ثابت ہونے کے لیے عمر، مقدار، مختلف ذرائع سے جمع شدہ دودھ (پولڈ ملک) اور نامعلوم شناخت سے حاصل شدہ دودھ کے حوالے سے فقہی آراء:
اسلامی قانون رضاعت کے تین بنیادی عناصر ہیں: مرضعہ (دودھ پلانے والی عورت)؛ دودھ ؛ اور رضیع (وہ بچہ جو کسی کا دودھ پی لے)۔ عمر، مقدار، مختلف ذرائع سے جمع شدہ دودھ (پولڈ ملک) اور نامعلوم شناخت سے حاصل شدہ دودھ کے حوالے سے فقہی آراء درج ذیل ہیں۔
۱۔ رضاعت اس وقت ہوتی ہے جب کوئی عورت دودھ چھڑانے کی عمر سے کم عمر کے بچے کو دودھ پلائے اور یہ کہ دودھ عورت کی چھاتی سے بچے کو جانا چاہیے۔ اگر چھاتی میں دودھ نہ ہو یا دودھ چھڑانے کی عمر سے زیادہ بچے کو دودھ پلایا جائے تو دودھ پلانے سے پیدا ہونے والی ممانعت رشتہ کی شرط پوری نہیں ہوتی۔ حدیث مبارکہ ہے: ’رضاعت بھوک سے ہے‘۔( صحیح بخاری 2647) یعنی رضاعت اسی عمر میں ثابت ہوتی ہے جب دودھ براہ راست بچے کی غذا بنتا ہو اور اس کی بھوک مٹاتا ہو۔ ایک اور روایت میں ہے: ’رضاعت صرف دو سال کی عمر میں ثابت ہوتی ہے‘۔ (موطا مالک 1290 )
راجح قول کے مطابق رضاعت کبیر ثابت نہیں ہوتی، لیکن پھر بھی ’ملک بینک‘ سے مستفید ہونے والے بچے وہ ہوں گے جو ’کبیر‘ کے بجائے’ صغیر‘ اور’ شیر خوار‘ کے زمرے میں ہی آئیں گے، لہٰذا اس حوالے سے رضاعت اور اس بنا پر حلت و حرمت کے سنگین مسائل پیدا ہوں گے۔اگر ایک ہی عورت سے دو یا دو سے زیادہ بچوں کو دودھ پلایا جائے، تو وہ رضاعی بہنیں اور رضاعی بھائی کہلائیں گے۔
رضاعت کے لیے دودھ کے چھاتی سے جانے کا مطلب یہ ہے کہ عورت کی چھاتی میں دودھ ہونا چاہیے۔ کیونکہ جمہور اہلِ علم کا یہی موقف ہے کہ رضاعت کے ثبوت کے لیے براہ راست پستان سے پینا ضروری نہیں۔ اگر ویسے ہی کسی برتن وغیرہ میں دودھ نکال کر بھی پی لیا تو رضاعت ثابت ہو جاتی ہے، کیونکہ اصل اعتبار دودھ کا معدے اور دماغ میں پہنچ کر خوراک اور غذا بننا ہے وہ کسی بھی طریقے سے حاصل ہو جائے تو رضاعت ثابت ہو جائے گی۔ بلکہ بعض فقہاء نے اس پر اتفاق نقل کیا ہے جیسا کہ ابن نجیم لکھتے ہیں: ’وجور اور سعوط دونوں سے بالاتفاق حرمت رضاعت ثابت ہو جاتی ہے۔ (وجور کا مطلب ہے دودھ نکال کر کسی برتن کے ذریعے منہ کی طرف سے دودھ پلانا اور سعوط کا مطلب ہے کہ ناک کے ذریعے دودھ ڈالنا)۔
۲۔ مسلمان فقہاء کی آراء میں دودھ پلانے کی تعداد یا مقدار کے حوالے سے اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔۔ امام شافعیؒ اور امام ابن حنبلؒ کے مقلدین کا خیال ہے کہ دودھ پلانا کم از کم پانچ مرتبہ ہونا چاہیے۔ وہ رسول اللہ ؐ کی ان احادیث پر اعتبار کرتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے سہلہ بنت سہیلؓ سے فرمایا: ’اگر تم سالم کو پانچ بار دودھ پلاؤ گی تو تم اس سے نکاح نہیں کرسکو گی‘۔[صحیح مسلم، 17 (33)]۔ نبی اکرم ؐ کا ایک اور قول ہے جہاں آپؐ فرماتے ہیں: ’نہ ایک دودھ پلانا اور نہ دو حرام کا سبب بنتا ہے‘۔[صحیح مسلم، 17 (24)]۔ ایک اور حدیث کے الفاظ ہیں: ’ایک دو دفعہ دودھ پینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی‘۔(صحیح مسلم 1451 )
بعض اہلِ علم کے نزدیک ایک بار سیر ہو کر دودھ پی لینا کافی ہے لیکن کئی ایک اہل ِعلم کے نزدیک قرآن و سنت کی رو سے راجح یہی ہے کہ کم از کم پانچ بار دودھ پینا ضروری ہے، ایک دو بار دودھ پینے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں شروع میں دس رضاعتیں حرام کرتی تھیں پھر پانچ رضاعتوں سے حرمت کا حکم نازل ہوا۔ نبی کریمؐ جب اس دنیا سے رخصت ہوئے تو یہی فیصلہ تھا۔ (صحیح مسلم 1452 )
۳۔ ’ہیومن ملک بینک‘ کے حوالے سے ایک اور مسئلہ ’مختلف ذرائع سے جمع شدہ دودھ ‘(پولڈ ملک) کا ہے یعنی جب مختلف خواتین سے حاصل کردہ دودھ ایک جگہ اکٹھا ہو رہا ہو،اور سکریننگ وغیرہ کے بعد بچوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہو۔ اس حوالے سے فقہ میں معمولی اختلاف کے ساتھ تقریباً اجماع پایا جاتا ہے۔ چاروں سنی فقہی مکاتب میں فقہاء کی بھاری اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ جمع شدہ دودھ پول کے تمام عطیہ دہندگان کے ساتھ دودھ کی رشتہ داری قائم کرتا ہے۔ البتہ کچھ فقہاء کے مطابق اگر کسی عورت کا دودھ غالب مقدار میں ہو تو اسی سے رشتہ داری قائم ہوتی ہے۔
۴۔ اس معاملے کاایک پہلو نامعلوم شناخت سے حاصل ہونے والے دودھ سے متعلق بھی ہے۔ حنفی، شافعی اور حنبلی مکاتب فکر کے مطابق عطیہ دینے والے کا نام ظاہر نہ کرنا اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ دودھ کی رشتہ داری قائم نہیں ہو سکتی، حالانکہ تینوں مکاتب کے فقہاء بھی احتیاط کا مشورہ دیتے ہیں۔ حنفی مکتب کے فقہاء نے ایسے حالات پر بحث کی ہے جن میں عطیہ دینے والے کی خاص طور پر شناخت نہیں کی جا سکتی اور اس لیے دودھ کی رشتہ داری کو قائم نہیں سمجھا جاتا کیونکہ شک کی بنیاد پر ازدواجی رکاوٹ قائم نہیں کی جا سکتی۔ یہ شک شیر خوار بچے کے حقیقتاً دودھ پینے، یا پانچ سیشن مکمل کر نے، یا پیدائش کے دو سال کے اندر اندر دودھ پینے، یا دودھ کے پیٹ تک پہنچنے کے حوالے سے ہو سکتا ہے۔ان صورتوں میں ازدواجی رکاوٹ قائم نہیں ہوگی۔ اگرچہ یہ دعویٰ درست ہے کہ عطیہ دینے والے کا نام ظاہر نہ کرنا اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ جمہور فقہاء کے نزدیک دودھ کی رشتہ داری قائم نہیں ہو سکتی لیکن ایسی صورت حال کا از خود پیدا کرنا بالکل جائز نہیں ہے، جہاں عطیہ دینے والے کی شناخت نہ ہو یاغیر یقینی ہو۔ اس کے برعکس، یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ عطیہ کرنے والے اور وصول کنندہ دونوں کا مناسب ریکارڈ رکھا جائے۔ ان فقہاء میں سے بھی جو نامعلوم شناخت سے ازدواجی رکاوٹ کو قائم نہیں سمجھتے، بعض نے واضح طور پر یہ رائے دی ہے کہ خواتین کو احتیاط کرنی چاہیے کہ وہ کس کو دودھ پلاتی ہیں اور صرف ضرورت کے وقت دودھ پلائیں اور ایسا کرنے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ انہیں اس کا تحریری ریکارڈ رکھنا چاہیے کہ انہوں نے کس کو دودھ پلایا ہے اور اسے عام کرنا چاہیے تاکہ دوسرے اس سے پیدا ہونے والی ازدواجی رکاوٹوں سے واقف ہوں۔ کچھ فقہاءکی رائے ہے کہ اگر نوزائیدہ کسی گمنام عطیہ دہندہ سے دودھ حاصل کرتا ہے تو نسب یا اولاد مزید پیچیدہ ہو جائے گی، جبکہ اسلامی قانون کے بڑے مقاصد میں سے ایک حفظ النسل کی حفاظت کرنا ہے۔
٭٭٭
حوالہ جات:
1 – https://www.dawn.com/news/1841568/ ،جون 2024 ،عرب نیوز پاکستانhttps://arab.news/juzzr/ https://www.geo.tv/latest/550437-pakistans-first
human-milk-bank-initiative-suspended-after-new-fatwa
2- Clin Exp Pediatr. 2020 Aug; 63(8): 301–309. Published online 2020 Mar 23. doi: 10.3345/cep.2020.00059، PMCID: PMC7402982، PMID: 32252145، https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pmc/articles/PMC7402982:
3- Mastitis and other diseases carried through breast milk, by Jordan Berns, Lactation lab, https://lactationlab.com/
4- Sinai health, Roger Hixon Ontario Human Milk Bank, Guidance for Donor Milk Usage، Pasteurized breast milk for preterm babies of Islamic faith, milkbankontario.ca
5- Why Donor Human Milk, https://milkbank.rmchildren.org/why-donor-human-milk/
6- Moro, G. E. (2018). History of milk banking: From origin to present time. Breastfeeding Medicine, 13(S1), S-16-S-17. https://doi.org/10.1089/bfm.2018.29077.gem
7- World Health Assembly Resolution; 33.32, 1980.
8 – F. Jones. History of milk banking: Human Milk Banking Association of North America; October, 2003.
9- Noraida Ramli*, Nor Roshidah Ibrahim, Van Rostenberghe Hans، Human milk banks – The benefits and issues in an Islamic setting, ،Eastern Journal of Medicine 15 (2010) 164.
10- Dr. Samia Maqbool Niazi, Dr. Mudasara Sabreen, Human Milk Banks and the Rules for Milk Siblings (Radā’), FAST Transactions on Islamic Research, http://vfast.org/journals/index.php/VTIR@ 2022, ISSN(e): 2309-6519, ISSN(p): 2411-6327, Volume 10, Number 1, January-March, 2022, p:57
11- Nadja Haiden and Ekhard E. Ziegler, Human Milk Banking, www.karger.com/anm, Published online: January 20, 2017۔
12- Sinai health, Roger Hixon Ontario Human Milk Bank, milkbankontario.ca
13- Breast milk donation: How it works ِ،Baby Centre, 2022, https://www.babycenter.com/baby/breastfeeding/is-it-safe-to-let-a-relative-or-friend-breastfeed-my-baby_10370355
14- Council of Islamic Ideology, Annual Report 2013-2014, p 308
15- Ulama Fatwa Council, 22/06/2024. Fatwa No. 543
16 ۳۔۸۸۔ بحوالہ علماء فتویٰ کونسل صحیح فقہ السنہ
17 ۳۔۲۴۶ بحوالہ علماء فتویٰ کونسل البحررائق
18- Nyazee, I. A. (2012). Outlines of Muslim personal law (1st ed.). Federal Law House Islamabad.
Parkes, P. (2005). Milk kinship in Islam. Substance, structure, history*. Social Anthropology, 13(3), 307-329. https://doi.org/10.1111/j.1469-8676.2005.tb00015.x
٭٭٭