نجانے کیا ہؤا ایسا
کہ اب اہلِ غزہ بھولے نہیں جاتے
تصور میں انہیں صیہونی شاطر سے
مقابل ہوتے اور لڑتے ہوئے ہی دیکھتی ہوں
پر کسی دم ان شجاعت کے پہاڑوں کو
شکستہ دل تصور کر نہیں سکتی
ہر اک کردار ہی مضبوط و مستحکم توانا ہے
جو دشمن کو مسلسل تلخیِ انجام سے دوچار کرتا ہے
کبھی تھک کر نہیں بیٹھے
نہ رنج و غم کی کوئی چھاپ ہی دیکھی
مگر دیکھا کہ قرآں کو ہی
زخموں کا مداوا تم نے ٹھہرایا
نئے اک دورسے انسانیت کو آشنا کرکے
جہاں میں بےضمیری ، بےحسی کی اوڑھنی میں
بے تحاشا چھید کر ڈالے
ابھی تو آسماں حیران ہے ششدر ستارے ہیں
یہ جتنے برج روشن ہیں شہیدوں سےتمہارے ہیں
وہیں اقدس سے کچھ ٹھنڈی ہوائیں مجھ کو آتی ہیں
کہاں سے ولولوں کو گرم جوشی یہ میسر ہے
کہاں سے تم نے یہ ایمان ، ایسا عزم پایا ہے
کہ جس نے امتِ مسلم میں وہ جذبہ جگایا ہے
جو بن جراح کے قدموں کی تیزی
اور جرأت کی نئی جہتیں دکھاتا ہے
نجانے اب جو یہ طوفان اقصیٰ میں اٹھا ہے
اس کے جھکڑ کتنے چہروں سے نقابوں کو اٹھائیں گے
ضمیروں کو جگائیں گے
نجانے کیا ہؤا ایسا
کہ اب اہلِ غزہ بھولے نہیں جاتے
یہ کیسا فقر ہے جو ساری دنیا سے
غنی کرتا ہے ان کو
بھوک سے بےحال ہو کر بھی شکایت تک نہیں کرتے
میرے ہاتھوں میں جب روٹی کے ٹکڑے ہوں
تو آنکھیں خود بخود آنسو بہاتی ہیں
یہ ان کے ناتواں جسموں کی کیسی آزمائش ہے
کہ جس کی آنچ دسترخوان پر مجھ کو رلاتی ہے
انہیں موسم کی سختی اور یخ بستہ ہواؤں میں
سکڑتے دیکھتے میں اپنی چادر بھینچ لیتی ہوں
نظر کو پھیر ان منظروں سے
کرب کی چند ایک سانسیں کھینچ لیتی ہوں
مگر اب ظاہر و باطن میں ایسی کشمکش ہے
جس کے باعث دل کی ویرانی مسلسل زندہ رہتی ہے
نجانے کیا ہؤا ایسا
کہ اب اہلِ غزہ بھولے نہیں جاتے!