قارئین کرام!
گزشتہ دو ماہ کے دوران وطنِ عزیز میں مہنگائی، بجلی کے بلوں،آئی پی پیز اور حکمران طبقے کی مراعات کے خلاف زبردست عوامی احتجاج ہوئے۔بعید نہیں کہ یہ عوامی شعور کی بیداری ایک ملک گیر تحریک کی شکل اختیار کرےاور اس بار اس کی قیادت وہ قوتیں کریں جن کا دامن کرپشن سے پاک ،کردار بے داغ اور جدوجہدذاتی اغراض سے مبرا ہے۔ ہمارا خطہ عوامی قوت سے آنے والی تبدیلیوں کی زد میں ہے۔ پاکستان میں حالات بدلنے کی امید سے کنارہ نہیں کیا جاسکتا،مسلسل جدوجہد اور نئے راستے تلاش کرنا، رکاوٹوں کو عبور کرنا اور یکسوئی سے منزل کی طرف بڑھتے رہنا شرط ہے۔
تم گرانے میں لگے تھے تم نے سوچا ہی نہیں
میں گرا تو مسئلہ بن کر کھڑا ہو جاؤں گا
مجھ کو چلنے دو اکیلا ہے ابھی میرا سفر
راستہ روکا گیا تو قافلہ ہو جاؤں گا
ساری دنیا کی نظر میں ہے مرا عہد ِوفا
اک ترے کہنے سے کیا میں بے وفا ہو جاؤں گا
اب جبکہ سات اکتوبر کو غزہ میں جاری نسل کشی کو ایک سال مکمل ہورہا ہے،غزہ کے بہادر لوگ بے حساب جانوں کے نذرانے دے رہے ہیں ایک لاکھ سے کہیں زیادہ زخمی ہیں، مگر ان کے پائے ثبات میں لغزش نہیں آئی۔ حزب اللہ لبنان کے لیڈراور لبنانی عوام کے محبوب رہنما حسن نصراللہ کی شہادت سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے سنگین رخ اختیار کرلیا ہے۔ عالمی دہشت گرد اسرائیل نے اب غزہ کے بعد خطے کے دیگر ممالک کا رخ کرلیا ہے اور اس کے ساتھی مجرم امریکہ اور دیگر یورپی ممالک، اسرائیلی حملوں کو بدستوراس کا دفاع کا حق قرار دے رہے ہیں۔لبنان کے جنوب کے بعد بیروت شہر کے نواح میں اور اب شہر کے مرکز پہ حملہ کیا گیا ہے۔ان حملوں میں سینکڑوں شہادتیں ہوئی ہیں جن میں زیادہ تر عورتیں اور بچے ہیں، اور ہزاروں زخمی ہیں جبکہ ایک بڑی آبادی نقل مکانی پر مجبور ہوگئی ہے۔ حسن نصراللہ سے قبل ان کے معاون ابراہیم عقیل کو شہید کیا گیا، پھر پیجر اور ریڈیو دھماکوں کے ذریعے متعدد قائدین جان سے گئے۔ اب حسن نصراللہ کی شہادت نے لبنانی عوام کو غم سے نڈھال کردیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر سمیت دنیا بھر میں مسلمانوں نے شدید غم کا اظہار کیا ہے،کئی اسلامی ممالک میں ریاستی اورعوامی سطح پر اس نقصان کا سوگ منایا گیا ہے۔ خود لبنان میں تین دن کے سوگ کا اعلان کیا گیا۔ ان شاءاللہ یہ خون رنگ لائے گا اور جہاد میں مزید تیزی آئے گی۔ حسن نصراللہ وہ رہنما تھے، جن کی قیادت میں ۲۰۰۶ میں حزب اللہ نے اسرائیل کو ناکوں چنے چبوا دیے تھے۔ اس بار بھی خیال کیا جارہا ہے کہ شہری آبادیوں پر بزدلانہ حملوں کے بعد جب زمینی حملوں کاوقت آئے گا تودشمن کو حزب اللہ کے ہاتھوں گزشتہ سے کہیں بڑھ کر ذلت اٹھانا پڑے گی۔حزب اللہ کے ساتھ ساتھ یمن کی حوثی فوج نے اسرائیل کی حالیہ دہشت گردی اور غزہ میں نسل کشی کا قوت سے جواب دیا ہے۔اب جبکہ اسرائیل نے یمن کی بندرگاہ پر بھی حملہ کردیا ہے تومشرقِ وسطیٰ میں ناجائز وجوداسرائیل کی مسلط کردہ یہ تباہی پورے خطے میں پھیلنے کا امکانات بڑھ گئے ہیں۔
مقبوضہ جموں وکشمیر کی غیر معمولی حیثیت ختم کرنے اور اسے بھارت کا حصہ بنانےکے ناجائز اقدام کے بعد وہاں پہلی بار انتخابات ہورہے ہیں۔۲۰۱۹ میں مقبوضہ وادی کو یونین کا درجہ دینے کے بعد وہاں مزید فوج تعینات کر کےجبر کےماحول میں نہایت تیزی سے ایسے اقدامات کیے گئے جو وادی کی شناخت بدلنے کی واضح کوشش پر مبنی تھے۔وادی کے باہر سے ہندوؤں کو لا کر وہاں بسانا تاکہ آبادی کا تناسب تبدیل ہوسکے، ملازمتوں اور عہدوں پر اپنی مرضی کے افراد کو بٹھانا تاکہ اختیار ان کے پاس رہے،جموں میں ہندو آبادی ہے تو وہاں اسمبلی کی نشستیں تناسب سے زیادہ بڑھادینا جبکہ آبادی کشمیر کی زیادہ ہے، اب ان اقدامات کےنتائج پر’’جمہوریت ‘‘کی مہر لگانے کے لیےانتخابات کا ڈھونگ رچایا گیا ہے۔ جبکہ حالت یہ ہے کہ ان گنت سیاسی رہنما جیلوں میں ہیں۔بی جے پی نے وادی کا سٹیٹس بدلنے کے مثبت نتائج کے بارے میں تین دعوے کیے جوسبھی غلط ثابت ہوئے۔ ایک یہ کہ سیکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوئی،جس کو خود کشمیری پنڈتوں نے اعدادوشمار کی روشنی میں غلط ثابت کردیا، دوسرا ٹورازم بڑھا جبکہ یہ تعداد مذہبی ٹورازم کی تعداد شامل کرکے بتائی جارہی ہے جو کہ پہلے شامل نہیں تھی، تیسراوادی میں ترقی ہوئی جبکہ حقیقت میں جی ڈی پی گروتھ خاصی کم ہوئی ہے،جبرو تشدد، پکڑ دھکڑ ،قیدوبنداور آزادیاں سلب کرنے کے ساتھ انٹرنیٹ کی بندش ہوئی جس نے کاروبار کو شدید متاثر کیااور معاشی حالات خراب تر ہوگئے۔کوئی انوسٹمنٹ نہیں ہوئی، پورے بھارت میں ۶فیصد بیروزگاری ہے تووادی میں بڑھ کر ۱۱ فیصد ہوگئی جس میں نوجوانوں کی شرح بیروزگاری ۱۸ فیصدہے۔وہاں کے لوگوں کی توقعات کے برعکس گورنر راج کو چھے سال ہونے کے باوجودوادی کو ریاست کا درجہ بھی نہیں دیا گیا۔ مستقل ملازمتیں نہیں دی جارہیں،کنٹریکٹ کی ملازمتیں سب باہر کے افراد کو دی جارہی ہیں ،نوجوانوں میں ڈرگز کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ بے اختیار بیوروکریسی ہےجو عوام کے مسائل حل کرنے سے قاصر ہے۔
ان حالات میں شاید لوگوں کوانتخابات واحد راستہ نظر آیا جس کے ذریعے وہ اپنا غبار نکال سکیں۔اسی لیے پہلے دو مرحلوں میں کم و بیش۶۱ فیصد ٹرن آؤٹ رہا ،حالانکہ اس سے پہلے وادی میں انتخابات کا بائیکاٹ ہوتا رہا ہے۔ جیسے ہمارے ہاں ہوتا ہے کہ سیاسی جماعتیں الیکشن سے پہلے ووٹ حاصل کرنے کے لیےبڑے بڑے وعدے کرتی ہیں جبکہ وہ خرابیاں خود انہی کے دورِاقتدارکی پیداوار ہوتی ہیں۔وادی میں بھی بعض جماعتوں نے پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے کالے قانون کو ختم کرنے کا وعدہ کیا ہےجس کے تحت ہزاروں صحافی، ہیومن رائٹس کارکن اور نقاد بغیر وجہ اور بغیرٹرائل کےجیلوں میں ٹھونس دیے گئے ہیں۔یہ اور بات کہ وعدہ کرنے والی جماعتوں نے خود اس قانون کو زبانیں بند کرنے کے لیے خوب استعمال کیا ہے۔وہاں کے عوام ان جماعتوں کی حقیقت کو خوب سمجھتے ہیں۔ اسی لیےحالیہ لوک سبھا کے الیکشن میں تہاڑ جیل میں بند عوامی اتحاد پارٹی کے انجینئر رشید کو اتنے ووٹ پڑے کہ ان کی جیت نے سب کو حیران کردیا۔ گویالوگ بڑا واضح پیغام پہلے ہی دے چکے ہیں کہ وہ وادی کی قیادت کے لیے کس قسم کے افراد پر اعتماد کرتے ہیں۔انجینئر رشید نے عمر عبداللہ کو دولاکھ ووٹوں سے ہرایاتھا جوبالکل غیر متوقع صورتحال تھی۔ وادی کے لیےان کا اصولی موقف کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کا ہے۔ یہ حریت کانفرنس اور سید علی گیلانی سمیت وادی کے ہر بچے کا موقف ہے۔کشمیری عوام پون صدی سے ظلم اور جبر سہہ رہے ہیں مگرکوئی طریقہ بھی ان کا موقف تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہؤا۔ لاکھوں قربانیاں دے کر بھی وہ اپنے حق کے لیے آج بھی اتنے ہی پرعزم ہیں۔ اگرچہ سری نگر میں اب بھی ٹرن آؤٹ ۲۷ فیصدہی رہا ہے،مگر مجموعی طور پرانہیں اس بار انتخابات میں کوئی امید نظر آئی ہے تو ان کی جدوجہد ان شاء اللہ آگے بڑھے گی۔ اب ان انتخابات کا تیسرا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد نتائج کا اعلان ہوگا۔ کیا نتائج منصفانہ ہوں گے، اور اگر منصفانہ ہوئے تو کشمیری عوام کی رائے کو انتہا پسند مودی سرکار کتنا برداشت کرپائے گی،یہ دیکھنا باقی ہے۔ابتدائی تجزیوں میں تو انتخابات کی شفافیت کو خواب و خیال ہی سمجھا جارہا ہے۔
عینی عرفان کے ناولٹ کا اختتام ہورہا ہے۔آپ کو کیسا لگا اپنی رائے ضرور دیں۔ ویب سائٹ پر سب سکرپشن لینے اورنیا شمارہ پڑھنے کا تجربہ کیسا رہا اس پر بھی ہمیں فیڈ بیک دیں تاکہ سسٹم کو بہتر کیا جاسکے۔اجازت دیجیے بشرطِ زندگی اگلے ماہ تک۔
دعاگو،طالبہِ دعا
صائمہ اسما