ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

قرآن و سنت کی روشنی میں – بتول مارچ طہار ت کے مسائل۲۰۲۲

سورہ البقرہ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ التَّوَّابِيْنَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ ’’بے شک اللہ توبہ کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے اور بہت پاک رہنے والوں سے محبت رکھتا ہے ( 222:2 )‘‘۔ وحیدالدین صاحب اپنی کتاب دینِ انسانیت میں پاکی اور صفائی کے متعلق اسی آیت پرتبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ آدمی جب غلطی کر نے کے بعد شرمندہ ہوتا ہے اور دوبارہ سچائی کی طرف پلٹ آتا ہے تو اس عمل کو توبہ کہا جاتا ہے۔ توبہ کا یہ عمل آدمی کے اندرون کو پاک کردیتا ہے۔ اسی طرح پانی با ہرکی گندگی کو پاک کرنے کا ذریعہ ہے۔ توبہ کےذریعے آدمی اپنی روح کو پاک کرتا ہے او رپانی کے ذریعے اپنے جسم کو، اور دونوں ہی چیزوں کی اسلام میں بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے‘‘(دینِ انسانیت: صفحہ 77 )۔ یعنی اسلام میں روح کی پاکیزگی اور جسم و لباس کی صفائی ستھرائی دونوں اہم ہیں۔ نبی صلى الله عليه وسلم پر جو دوسری وحی نازل ہوئی اس میں اللہ تعالیٰ نے آپ کونبوت کی بھاری ذمہ داری اٹھانے کے لیے جو احکامات دیے ان میں سے ایک حکم یہ دیا کہ: وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ۔ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ ’’ اور اپنے کپڑے پاک رکھواور میل کچیل دور کرو ‘‘ (المدثر:5۔4)۔ انسان فطرتاً صفائی وستھرائی کو پسند کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کاجسم، لباس ، اس کے اردگرد کا ماحول خاص طور پر اس کا گھر اور ہر چیز صاف ستھری ہو۔آئیے اب طہار ت کی اہمیت و فضیلت اور چند اہم مسائل اور ان کے حل قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھتے ہیں۔ طہارت نصف ایمان : آ پؐ کےفرمان کے مطابق ، طہارت نصف ایمان ہے۔ محمدیوسف اصلاحی صاحب اس حدیث پرتبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس میں روح اور جسم دونوں کی طہارت مقصود ہے، ’’روح کی طہارت و نظافت یہ ہے کہ اسے کفر و شرک اور معصیت و ضلاضت نجاستوں سے پاک کر کے صالح عقائد اور پاکیزہ اخلاق سے آراستہ کیاجائے اور جسم کی طہارت و نظافت یہ ہے کہ اسے ظاہری ناپاکیوں سے پاک وصاف رکھ کر نظافت اور سلیقے کے آداب سے آراستہ کیا جائے‘‘(آداب زندگی: صفحہ 5) ۔ وضو(طہارت)سے گنا ہ دھل جاتے ہیں ۔حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ؐنے فرمایا ’’جب ایک مومن مسلمان وضو کرتا ہے اور منہ دھوتا ہے تو جو گناہ (صغیرہ)اس کی آنکھوں سے سرزد ہوئے ہیں وہ چہرہ سے پانی گرتے ہی یا پانی کا آخر ی قطرہ گرتے ہی دھل جاتے ہیں اور جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو جو گناہ اس کے ہاتھوں سےسرزد ہوئے ہیں وہ ہاتھ دھونے سے یاہاتھوں سے پانی کا آخر ی قطرہ گرتے ہی دھل جاتے ہیں، اسی طرح جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو جو گناہ اس کے پاؤں سے صادر ہوئے ہیں تواس کے وہ گناہ پاؤں دھونے سے یا پاؤں سے پانی کاآخر ی قطرہ گرتے ہی معاف ہو جاتے ہیں‘‘ مسلم)۔ اسی طرح حضرت عثمانؓ سے روایت ہے آنحضرتؐ نے فرمایا کہ’’ جس شخص نے نماز کی ادائیگی کے لیے وضو کیا اور اچھی طرح سے وضو کیا تو گناہ اس کے بدن سے نکل جاتے ہیں ( یعنی معاف ہو جاتے ہیں)حتیٰ کہ ناخنوں کے نیچے سے بھی‘‘(مسلم)۔ طہارت کی اہمیت:اسلام میں تمام عبادات کے لیے طہار ت لازم ہے۔ مثلاً نماز جو اسلام کا ایک بنیاد ی رکن ہے آپ ؐنے اس کےلیے جسم کی صفائی، لباس کی صفائی اور نماز ادا کرنے والی جگہ کی صفائی کوبنیادی شرائط قرار دیا۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ؐکو فرماتے ہوئے سنا کہ ’’اللہ طہار ت کے بغیر نماز قبول نہیں کرتا اور مالِ غنیمت سے چوری کیےہوئے مال کاصدقہ قبول نہیں کرتا‘‘(مسلم)۔ حضرت ابوسعیدؓ خدر ی سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا ، ’’طہار ت(وضو)نمازکی کنجی ہے‘‘ (مسلم)۔ یعنی ہر قسم کی صفائی و ستھرائی کے باوجو دنماز کے لیے وضو کولازم قرار دیا ۔ لیکن اگر کبھی حالات ایسے ہوں کہ پانی میسر نہیں یا اس کا استعمال منع ہو تو اللہ تعالیٰ نے تیمّم کا حکم دیا تاکہ نفسیاتی طور پر طہارت و نظافت کے اس احساس کو برقرار رکھا جا سکے۔وضو، غسل اور تیمّم کے احکامات دے کر اللہ تعالیٰ نے ان کی غرض و غایت ان الفاظ میں بیان فرمائی،: ’’اللہ تم پر تنگی نہیں کرنا چاہتا لیکن تمہیں پاک کرنا چاہتا ہے اور تاکہ اپنا احسان تم پر پورا کرے تاکہ تم شکر کرو‘‘ (المائدہ: 6)۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ کےنزدیک ایک بستی قبا کے لوگ نماز کے لیے طہار ت کا بہت اہتمام کرتے تھے جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف ان الفاظ میں فرمائی ہے: ’’اس میں ایسے لوگ ہیں کہ وه خوب پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ خوب پاک ہونے والوں سے محبت کرتا ہے‘‘ (سورہ توبہ: 108 ) یہ ہی نہیں بلکہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قبر میں عذاب کی بڑی وجہ پیشاب کرنے کے بعد طہارت سے غفلت برتنا ہے۔ حضرت عباس سے مروی ہے کہ آپؐ نے فرمایا، ’’ قبر میں زیادہ تر عذاب پیشاب کے معاملے میں ہوتا ہے لہٰذا ا س سےاحتیاط کرو‘‘(طبرانی)۔ رفعِ حاجت کے مسائل: حضرت ا نسؓ سے مرو ی ہے کہ نبیؐ بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ ’’اے اللہ بے شک میں تیری پناہ مانگتا ہوں اور خبیث جنوں اور خبیث جننیوں سے ‘‘(بخاری)۔ حضرت عائشہ رضی اللہ فرماتی ہیں کہ جب ’’آپؐ بیت الخلا ء سے باہر آتے تو فرماتےغفرانک‘‘ (یا اللہ میں تیری بخشش چاہتا ہوں)۔ رفعِ حاجت سے فارغ ہونے کے بعد بائیں ہاتھ سےپانی سے استنجا کرنا چاہیے لیکن اگر پانی دستیاب نہ ہو تو مٹی کے تین ڈھیلوں سے طہار ت حاصل کی جاسکتی ہے او روضو کرنا ضروری نہیں ۔ حضر ت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ آپؐ رفع حاجت سے فارغ ہو کر آئے تو کھانا لا یا گیا عرض کی گئی آپ ؐ وضو نہیں فرمائیں گےآپؐ نے ارشاد فرمایا’’ کیا نماز پڑھنی ہے کہ وضو کروں‘‘(مسلم)۔ ہاں البتہ ہاتھوں کومٹی یا صابن سے اچھی طرح صاف کرنا چاہیے۔ نجاست دور کر نے کے مسائل: نجاست دور کرنے کے لیے بایاں ہاتھ استعمال کرنا چاہیے۔ حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ’’ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم وضو اور کھانا کھانے کے لیےدایاں ہاتھ استعمال کرتے جبکہ استنجا اور دوسر ی نجاست دور کرنے کے لیے بایاں ہاتھ استعمال کرتے تھے‘‘(ابو داؤد)۔ جوتوں پر لگی نجاست مٹی پر رگڑنے سے دور ہوجاتی ہےپانی کے علاوہ پاک مٹی سے گندگی او رنجاست دورکی جاسکتی ہے ۔پیشاب کی نجاست پانی سے دور ہوجاتی ہے او زمین خشک ہو کر خود بخود پاک ہوجاتی ہے جیسا کہ حد یث سے معلوم ہوتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ مسجدِ نبوی میں ایک بدو نے پیشاب کردیا لوگ اسے مارنے کو دوڑےنبیؐ نے فرمایا، ’’اسے کچھ نہ کہو اور اس کے پیشاب پر پانی کا ڈول بہادو کیونکہ تم مشکل پیدا کرنے کے لیے نہیں آسانی پیدا کر نے کے لیے بھیجے گئے ہو‘‘ (بخاری)۔ حیض و نفا س کے مسائل : ہمارے ہاں چونکہ اس موضوع پر کھل کر بات نہیں ہوتی یہاں تک کہ گھروں میں بھی اس موضوع پر بات کرنا ناپسند کیا جاتا ہے اس لیے اکثر نوجوان بچیاں اور خواتین اپنے ساتھ درپیش مسائل کو سمجھنے اور انہیں مسنون طریقے سے حل کرنے سے قاصر رہتی ہیں۔ انہی میں صحت و صفائی سے متعلق مسائل بھی شامل ہیں۔ مجھےذاتی طور پرایسی کئی خواتین سےبات کرنے کا موقع ملا جو سنی سنائی باتوں پر عمل کر رہی تھیں ا ور مختلف مشکلات سے دوچارتھیں۔ مثلاً کئی خواتین نے بتایا کہ ان کے علاقے میں حیض اور نفاس کے دوران عورت کو نہانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ ایک مرتبہ جب حیض آنا ختم ہوجائیں تو ہی وہ غسل لے سکتی تھیں۔ اس کے علاوہ انہیں وہ تمام کپڑے جو ا س دوران انہوں نے استعمال کئے ہوتے ہیں حتیٰ کہ بستر کی چادریں تک دوسرے کپڑوں سے الگ رکھنی ہوتی ہیں اور انہیں الگ ہی دھویا جاتا ہےتاکہ وہ دوسرے پاک کپڑوں کو ناپاک نہ کردیں۔ لہٰذا اکثر خواتین کو اس دوران لباس بدلنے کے لیے منع کیا جاتا ہے ۔ جبکہ احادیث سے یا امہات المومنین اور صحابیات کے عمل سے اس قسم کے کسی فرسودہ عمل کی کوئی دلیل نہیں ملتی ۔ بلکہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حالتِ حیض میں عور ت کا جسم اور کپڑے پاک ہوتے ہیں۔ حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ ’’رسول اللہ ؐمیری گود میں تکیہ لگا کر قرآن کی تلاوت کرتے حالاں کہ میں حیض سے ہوتی‘‘(مسلم)۔ اسی طرح معلوم ہوتا ہے کہ کپڑے پر اگر حیض کا داغ ہو تو اتنی جگہ دھو کر اسی کپڑے میں نماز ادا کی جاسکتی ہے۔ جیسا کہ حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں کہ’’جب ہم میں سے کسی کے کپڑے حیض کے خون سے آلودہ ہوجاتے تو غسل حیض کے بعد ہم خون کپڑے سے کھرچ ڈالتیں پھر وہ جگہ پانی سے دھو ڈالتیں اور سارے کپڑے پرپانی چھڑک کر اس میں نماز پڑھ لیتیں‘‘(بخاری)۔ اسی طرح ہمارے ہاں دیکھا گیا ہے کہ دورانِ حیض عورت نہ تو جائےنماز کو ہاتھ لگاسکتی ہے نہ ہی اسے ذکر واذکا ر کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔جبکہ ایسا کرنا جائز ہے او ر اس بارے میں واضح حدیث موجود ہے۔ حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ؐنے مجھے مسجد سے جائے نماز لانے کا حکم دیا میں نے عرض کیا ’’میں تو حالتِ حیض میں ہوں‘‘ آپؐ نے فرمایا ’’ حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے‘‘(مسلم) ۔ دورانِ حیض عور ت نہ تو نماز پڑھ سکتی ہے اور نہ ہی روزہ ر کھ سکتی ہے۔ حضرت ابو سعیدؓ خدری سے مروی ہے کہ نبیؐ نے فرمایا’’ کیا ایسا نہیں کہ جب عورت کو حیض آئے ، تو نہ وہ نماز پڑھ سکتی ہے اور نہ ہی روزہ ر کھ سکتی ہے‘‘ ہم نے کہا’’ہاں‘‘ تو آپؐ نے فرمایا’’ عورتوں کے دین میں کمی کی وجہ یہی ہے‘‘(بخاری)۔ اگرچہ عورت نمازروزہ نہیں کرسکتی لیکن زبانی ذکر اذکار کرسکتی ہے۔ رمضان میں حیض کے دنوں کی گنتی کو بعد میں روزے رکھ کر پوری کرناواجب ہے جبکہ ان دنوں میں چھوڑی ہوئی نمازوں کی قضا نہیں ہے۔ حیض ختم ہوتے ہی غسلِ حیض کے بعد جس نمازکا وقت ہو اسے ادا کرنا لازم ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ؐنے فرمایا، ’’جو شخص حائضہ سے صحبت کرےیا عورت سے دبر کے راستے سے صحبت کرے یا نجومی کے پاس آئے تو اس نے گویا محمدؐ پر نازل شدہ تعلیمات کا انکار کیا‘‘ (ترمذی)۔ استحاضہ اس خون کو کہتے ہیں جو بعض خواتین کو پورا مہینہ بغیر رکے مسلسل آتا رہتا ہے یا مہینے میں صرف چنددن رک جائے۔ استحاضہ ایک مر ض ہے اور اس مرض کی بیمار خاتون کو مستحاضہ کہتے ہیں۔ استحاضہ کے احکام حیض و نفاس کے احکام سے الگ ہیں (طہار ت کے مسائل: صفحہ 59 )۔ جس مستحاضہ کو ایام حیض معلوم ہوں وہ اپنی گزشتہ عادت کے مطابق ایامِ حیض کاشمار گزرنے کے بعد غسلِ حیض کر کے معمول کے مطابق نمازادا کرے اور روز ہ رکھے۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ حضرت فاطمہ بنتِ ابی حبیش نے رسول اللہؐ کی خدمت میں عرض کی ’’ اےا للہ کے رسولؐ میں مہینہ بھر پاک نہیں ہوتی ، کیا نماز چھوڑ دوں؟ رسول اللہؐ نے فرمایا یہ ایک رگ کا خون ہے، حیض کا نہیں لہٰذا جب حیض شروع ہو تو نماز چھوڑ دو اور جب عاد ت کے برابر دن گزر جائیں تو خون دھولو اور نماز پڑھو‘‘ (بخاری)۔ البتہ مستحاضہ کو ہر نماز کےلیے نیا وضو کرنا چاہیے۔ بخاری کی ایک روایت کے مطابق مستحاضہ غسلِ حیض کے بعد اپنی عبادات معمول کے مطابق ادا کرسکتی ہے اور اس سے صحبت کرنا جائز ہے۔ جنابت کے مسائل : احتلام یا جماع کی وجہ سے پیدا ہونے والی ناپاکی کو جنابت کہتے ہیں(طہارت کے مسائل: صفحہ 42 )۔ حالتِ جنابت میں کسی سے مصافحہ کرنا، سلام دعا کرنا یا بات چیت کرنا جائز ہے۔ حضرت ا بو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ مدینے کی کسی گلی میں ان کی نبیؐ سے ملاقات ہوئی، اس وقت ا بوہریرہؓ جنبی تھے چنانچہ وہ وہاں سے کھسک گئے، جا کر غسل کیا او رپھر خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے ۔ رسول اللہؐ نے پوچھا ’’ ابو ہریر ہؓ تم کہاں چلے گئےتھے ؟ حضرت ابوہریرہؓ نے عرض کی‘‘ میں حالتِ جنابت میں تھا، لہٰذا میں نے اس حالت میں آ پؐ کے پاس بیٹھنا اچھا نہ سمجھا آپؐ نے فرمایا،’’ سبحان اللہ مومن کسی حالت میں ناپاک نہیں ہوتا‘‘ (بخاری)۔ حالتِ جنابت میں نماز پڑھنا، قرآن پڑھنا یا پڑھانا منع ہے: البتہ زبانی اللہ کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ ’’اللہ کے نبی ہر حال میں اللہ کا ذکر کیاکرتے تھے‘‘ (مسلم)۔ اور حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ’’ نبیؐ حالتِ جنابت کے علاوہ ہر حال میں ہمیں قرآن مجید پڑھایا کرتے تھے‘‘(ترمذی)۔ غسل کے مسائل : جنابت کے بعد غسل کرنا واجب ہوتا ہے ۔حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی ؐنے فرمایا، ’’ جب میاں ،بیوی سے صحبت کرے تو اس پرغسل واجب ہوجاتا ہے‘‘(بخاری)۔ مرد و عورت پر احتلام کی صورت میں بھی غسل واجب ہوجاتا ہے۔ غسلِ جنابت کا مسنون طریقہ : حضر ت عائشہ ؓروایت کرتی ہیں کہ جب اللہ کے رسول ؐ غسلِ جنابت فرماتے تو پہلے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھوتے پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر شرمگاہ دھوتے پھر نماز کی طرح کا وضو کرتے اس کے بعد ہاتھ کی انگلیوں سے سر کے بالوں کی جڑوں کوپانی سے تر کرتے تین لپ پانی سر پر ڈالتے اور پھر سارے بدن پرپانی بہاتے۔ آخر میں ایک بار پھر دونوں پاؤں دھوتے(متفق علیہ)۔ غسلِ جنابت میں پانی سر کے بالوں کی جڑوں تک پہنچانا چاہیے۔ حضرت ثوبانؓ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام نے رسول اللہؐ سےغسلِ جنابت کے بارے میں سوال کیا تو آپ ؐنےفرمایا،’’مرد اپنے سر کے بال کھولےاور انہیں دھوئے حتیٰ کہ پانی بالوں کی جڑوں تک جائے اور عورت کے لیے بالوں کو کھولنا ضروری نہیں بلکہ وہ اپنی دونوں ہتھیلیوں سے تین کپ پانی اپنے سر میں ڈالے‘‘(ابوداؤد)۔ مجھے ذاتی طور پر اس حدیث کی حکمت اس وقت سمجھ آئی جب انگلینڈ میں میرے قیام کے دوران میرا واسطہ افریقی خواتین سے پڑ اجن کے بالوں کی بہت سی باریک اور چھوٹی چھوٹی چوٹیاں بنی ہوتی تھیں۔ اگر ایسی مسلمان خواتین کوغسلِ جنابت کے لیے بالوں کو کھولنا پڑتا تو کس قد ر مشکل ہوتی۔ غسل جنابت کے لیے اگر پانی میسر نہیں تو غسل کی نیت سے کیا ہوا تیمم ہی کافی ہے۔ حضرت عمران بن حصین کہتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے ایک آدمی کو دیکھا جو الگ بیٹھا تھا اور لوگوں کے ساتھ نماز نہ پڑھی تھی آپؐ نے فرمایا’’ اے فلاں تو نے لوگوں کے ساتھ نماز کیوں نہ پڑھی؟ اس نے عرض کی ،‘‘میں جنبی ہوں او رپانی میسر نہیں ’’آپ نے فرمایا تم پاک مٹی سے تیمم کر لو وہی (غسلِ جنابت اور وضوکے لیے) کافی ہے‘‘(بخاری)۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وضو اور غسل دونوں کے لیے ایک ہی تیمم کافی ہے۔ حیض ختم ہونے کے بعد غسل کرنا واجب ہوتا ہے۔ حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ حضرت فاطمہ بنتِ ابی حبیش کو استحاض کی شکایت تھی۔ انہوں نے رسول اللہ ؐسے مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا ’’ یہ ایک رگ کا خون ہے حیض کا نہیں ، جب حیض شروع ہو تو نماز چھوڑ دو جب ختم ہو جائے تو غسل کرکے نماز شروع کردو‘‘(بخاری)۔ غسلِ حیض کا مسنون طریقہ: حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ حضرت اسماء (ایک انصاری خاتون) نے آپؐ سے غسلِ حیض کے بارے میں سوال کیا تو آپؐ نے فرمایا ’’ پہلے پا نی میں بیر ی کے پتے ڈال کر حیض کے خون سے اچھی طرح سے پاکی حاصل کرو پھر سر پر پانی ڈالو اور خوب اچھی طرح سے ملو تاکہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے۔ پھرسارے بدن پر پانی بہاؤ پھر خوشبو لگی ہوئی روئی کا پھاہا لےکر اس سےپاکی کرو‘‘ (مسلم)۔ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ بیر ی کے پتوں کے بجائے آجکل کے صابن، باڈی باتھ اور شیمپو اس مقصد کے لیے کافی ہیں اور کیوں کہ وہ خوشبودار ہوتے ہیں اس لیے الگ سے روئی کے پھائے کا استعمال ضروری نہیں۔ جمعہ کے د ن غسل کرنا مسنون ہے، میت کوغسل دینے کے بعد غسل کرنا مستحب ہے اور غیر مسلم جب اسلام قبول کرے تو اس پر غسل واجب ہے۔غسل یا وضو کرتےہوئے پانی کے استعمال میں احتیاط بر تنی چاہیے۔ وضو کے مسائل: ہم سب ہی جانتے ہیں کہ وضو نماز کی کنجی ہے اور اس کے بغیر نماز قبول نہیں ہوتی۔ وضو سے پہلے بسم اللہ پڑھنی چاہیے اور وضو کے بعد یہ دعاپڑھنامسنون ہے۔ جیسا کہ حضرت عمرؓ بن خطاب سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ’’ اگر کوئی شخص مکمل وضو کر کے یہ دعا پڑھ لے کہ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّہ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُمیں گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ،وہ تنہا ہے اس کو کوئی شریک نہیں ہے ،اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ؐاللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، تواس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں کہ جس سے چاہے داخل ہو‘‘(مسلم) ۔ ترمذی میں اس دعا کے ساتھ درج ذ یل دعا کا اضافہ ملتا ہے۔اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ، وَاجْعَلْنِي مِنَ المُتَطَهِّرِينَ’’ اے اللہ ا مجھے بہت توبہ کرنے والوں میں اور بہت پاک رہنے والوں میں شامل فرما‘‘(ترمذی)۔ وضو کا مسنون طریقہ : حضرت حمرانؓ سے مروی ہے کہ حضرت عثمانؓ نے و ضوکےلیے پانی منگوایا ۔ پہلے اپنی ہتھیلیاں تین مرتبہ دھوئیں، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا ،پھر اپنا چہرہ تین مرتبہ دھویا، پھر دایاں ہاتھ کہنی تک تین مرتبہ دھویا پھر اسی طرح بایاں ہاتھ کہنی تک تین مرتبہ دھویا ، پھر سر کا مسح کیا ۔ مسح کے بعد اپنا دایاں پاؤں ٹخنے تک تین مرتبہ دھویا پھر اسی طرح اپنا بایاں پاؤں ٹخنے تک تین مرتبہ دھویا پھر فرمایا’’میں نے رسول اللہ ؐکو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے‘‘ (مسلم)۔ سر کے مسح کے ساتھ کانوں کا مسح بھی ضروری ہے جس کا مسنون طریقہ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس وضو کا طریقہ بتاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ’’رسولؐ اللہ ؐنے اپنے سر کا مسح کیا اور اپنی شہادت کی دونوں انگلیوں سے کانوں کے اندر اور اپنے دونوں انگوٹھوں سے اپنے کانوں کے با ہرکا مسح کیا‘‘(نسائی)۔ وضو کے اعضا کو ایک بار یا دو بار یا تین بار دھونا جائز ہے اس سے زائد دھونا زیادتی ہے ۔ آپ ؐنے وضو کے ساتھ مسواک کی ترغیب بھی دلائی ہے۔ وضو میں ہاتھ اور پاؤ ں کی انگلیوں اور داڑ ھی کا خلال کرنا مسنون ہے۔ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھی جا سکتی ہیں۔ وضو کر کے پہنے ہوئے جوتوں، موزوں اور جرابوں پر مسح کیا جا سکتا ہے۔ مدتِ مسح مقیم کے لیے ایک دن رات ہے اور مسافر کے لیے تین دن رات ہے۔ وضو ٹو ٹنےکی وجوہا ت : ٹیک لگائے بغیر اونگھ یا نیند آجائے، کھانے پینے یا صر ف شک کی بنا پر وضو نہیں ٹو ٹتا۔ شرمگا ہ کو ہاتھ لگانے سے ، مذی خارج ہونے سے، ہوا خار ج ہونے سے ، رفعِ حاجت سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ۔ تیمم کے مسائل: اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جہاں وضو اور غسل کا حکم دیا وہیں پانی نہ ہونے کی صورت میں غسل یا وضو کے لیے تیمّم کا حکم دیا ہے ۔ سورہ المائدہ میں ہے،: ’’ اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے چہرو ں اور کہنیوں تک ہاتھ دھو لو اور اپنے سروں پر مسح کرو اور اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھو لو، اور اگر تم ناپاک ہو تونہا لو، اور اگر تم بیمار ہو یا سفر پر ہو یا کوئی تم میں سے جائے ضرو رت(رفع حاجت) سے آیا ہو یا عورتوں کے پاس گئے ہو پھر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو اور اسے ا پنے چہروں اور ہاتھوں پر مل لو، اللہ تم پر تنگی نہیں کرنا چاہتا لیکن تمہیں پاک کرنا اورتم پر اپنا احسان پوراکرناچاہتا ہے تاکہ تم شکر کر و‘‘(المائدہ: 6)۔ غسل کے لیے ایک ہی تیمّم کافی ہے۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پانی نہ ملنے کے علاوہ اگر شدید بیماری ہو او رپانی کے استعمال سے بیماری کے بڑھنے کا خدشہ ہو تو بھی تیمّم کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ شدید سردی میں بھی تیمّم کی اجازت ہے۔ تیمّم کا طریقہ: حضرت عمارؓ بن یاسر کہتے ہیں کہ مجھے نبیؐ نے ایک کام سے بھیجا۔ مجھے احتلام ہو گیا او رپانی نہ ملا۔ میں تیمّم کرنے کے لیے زمین پر جانوروں کی طرح لوٹا۔ جب میں نبی ؐکے پاس واپس آیا تو اس واقعے کا ذکر آپؐ سےکیا ۔آپؐ نے فرمایا ’’ تجھے اپنے ہاتھوں سے اس طرح کر لینا کافی تھا۔ پھر آپؐ نے اپنے دونوں ہاتھ ایک مرتبہ زمین پر مارے اور بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ پر مارا اس کے بعد آپؐ نے ہتھیلیوں کی پشت اورچہرے کا مسح کیا‘‘(متفق علیہ)۔ نوٹ: اس مضمون کی تیاری میں محمد اقبال کیلانی صاحب کی کتاب، ‘ طہار ت کے مسائل سے استفادہ کیا گیاہے۔ ٭ ٭ ٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x